پریس ریلیز

24اکتوبر 2016اسلام آباد۔ صنفی تشدد معاشرے کی ترقی پر منفی اثرات کا باعث ہے اس منفی رجحان کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر تمام وسائل کو بروئے کار لانے کی ضروت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پودا¿ کی طرف سے خواتین کے خلاف صنفی تشدد کی 16روزہ مہم کے موقع پر مقررین نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کیا ۔ جس میں خواتین کے تحفظ کے قوانین کا تجزیہ مشکلات اور آگے بڑھنے کے طریقہ کار پر بات کی ۔ اس مہم کا آغاز پودا¿ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے کیا جس میں ماہرین تعلیم، عورتوں کے حقوق اور امن کے لیے کام کرنے والے کارکنان، وکلاء، نوجوانوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور حکومتی نمائندوں کے علاوہ یورپی یونین کے وفد برائے پاکستان نے شرکت کی۔اس سال مہم کے بنیادی موضوع کے لیے اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ تمام عوامل اکٹھے ہو کر صنفی تشدد کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل بروے کار لائیں بلکہ مزید فنڈز کا انتظام کریں۔

مقررین نے صنفی مساوات ، خواتین کے حقوق اور خواتین کو با اختیار بنانے کی سمت میں آگے بڑھنے کے لیے تمام ذمہ داران ،حکومت ، سول سوسائٹی، ملکی اور غیر ملکی تنظیموں کی طرف سے ٹھوس کوششوںاور اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

خواتین کے خلاف صنفی تشدد کی 16 روزہ مہم کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی مہم ہے جو کہ 1991میں خواتین کے گروپ جو کہ ایشیائ، افریقہ ، امریکہ ، شمالی امریکہ اور یور پ کی سر گرم خواتین سے تعلق رکھتی تھی نے شرو ع کی جس کا بنیادی مقصد لوگوں کو اس سنگین مسئلہ کے بارے میں آگاہی دینا تھا ۔ 25نومبر خواتین کے خلاف تشدد کا عالمی دن اور 10 دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کو آپس میں ملانے کا مقصد در اصل اس بات کا ادراک کرتا ہے کہ عورتوں کے حقوق کے خلاف ورزی در حقیقت انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی مہم میں حصہ لینے سے ہی ان مسائل کو اجاگر کیا جا سکتا ہے ۔

محترمہ ثمینہ نذیر ، بانی پودا¿ نے کہا کہ خواتین ،لڑکیوں اور محروم طبقات کے خلاف تشدد کا خاتمہ لوگوں اور صحت مند معاشرے کے لیے ضرورت ہے کیونکہ تشدد سے پاک زندگی ہی بہتر معاشی حالات کی ضامن ہے ۔ انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ عدم مساوات، بھوک و افلاس اور بیماری کے خاتمے اور امن و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے بین الاقوامی وعدے پورے کرے اور ذمہ داریاں نبھائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے حکومت کوصنفی امتیاز کو ختم کرنے اور خواتین کو با اختیار بنانے کے فروغ میں پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ٹھوس اقدارت کی ضرورت پر زور دیا ۔ اُنہو ںنے کہا کہ ہم اس چیز کے گواہ ہیں کہ ہمارے ارد گرد تشدد ہو رہا ہے خاص طور پر ہمارے دیہی علاقوں میں ۔ معاشرے کی بہتری کے لیے لوگوں اور حکومت کو ایک ہی پیج پر ہونا چاہیئے یہ مشترکہ سوچ اس بات کی ضمانت مہیا کرئے گی جس کی وجہ سے مرد اور عورت کو اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنے میں ترجیح دیںگے ۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے کی ضروت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں انسانی حقوق کی آگاہی اور قانون کی علمداری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جہاں تشدد کسی نہ کسی حالت میں موجود ہے ۔ 

محترمہ ناھیدہ عباسی ، ریجنل منیجر پودا¿ پودا¿ نے تمام شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس تقریب کے امن و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم سب یہاں جنس کی بنیاد پر تشدد کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کے لیے اکھٹے ہوئے ہیںاور حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ بل (غیرت کے نام پر قتل اور انسدادعصمت دری )جیسے قوانین کا تجزیہ کے ساتھ ساتھ حالیہ منظور شدہ قوانین کے موثر نفاد کے لیے لوگوں کو آگاہی دینا مقصود ہے ۔ 

اس کے علاوہ انہوں نے اس سولہ روزہ مہم2016میں پودا¿ کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پودا¿ اس موقع پر مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کر رہا ہے جس میں عورتوں کے حقوق کے لیے سر گرم خواتین کی کانگرس شامل ہے ۔ جس میں ملک بھر کی نا مور خواتین اس مسئلے کے حل کے لیے اپنی سفارشات پیش کریں گی جس سے تشدد کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات پر غور کیا جائے گا اور ان سفارشات کوبھرپور انداز میں مناسب فورم میں پیش کرے گا ۔ انہوں نے میڈیا کو بھی دعوت دی کہ وہ اس کوشش میں پودا¿ کے ساتھ مل کر کام کرے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پودا¿ ریڈیو پروگرام کا انعقاد بھی کر رہا ہے جس میں حالیہ بنائے گئے قوانین کی تشہیر کی جائے گی ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ان قوانین کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور ماہر قانون دان براہ راست نشریات کے ذریعے لوگوں کے سوالوں کے جوابات بھی دیں گے اور صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے قانونی آراءسے بھی آگاہ کریں گے ۔ اس کے علاوہ پودا¿ ملک کی نامور یونیورسٹیوں میں انسانی حقوق کے حوالے سے طالب علموں کو فلمز دکھائے گا اور ان کی انسانی حقوق کے حوالے سے سمجھ بوجھ میں اضافہ کرے گا ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی مہم کا آغاز کرے گا جس میں پیغامات کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کیا جائے گا۔

نامورقانون دان محترمہ حفظہ بخاری ایڈووکیٹ نے غیرت کے نام پر قتل اور انسداد عصمت دری جیسے قوانین منظور کرنے کی حکومت کی حالیہ کوششوں کو ایک اچھی شروعات قرار دیا تاہم عورتوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کے خلاف قوانین کو موثر عملدار پر زور دیا انہوں نے کہا غیرت کے نام پر قتل اور انسداد عصمت دری پر موثر عملداری پر بات کرتے ہوئے کہاکہ اب غیرت کے نام پر قتل ریاستی جرم قرار دیا گیا ہے جس میں قصاص اور آرڈیننس کے تحت اس کے ورثاءسے مجرم کو معاف کرنے کا حق واپس لے لیا گیا ہے اور اس کی سزا عمر قید مقرر کی گئی ۔ اس قانون پر موثر عملدراری کے لیے ضروری ہے کہ پولیس افسران کو غیرت کے نام پر قتل پر بنائے گئے قوانین پر پورا عمل ہونا چاہیئے اورر غیرت کے نام پر قتل کو عام قتل تصور نہ کیا جائے اور دورانِ تفتیش اس امر کا خاص خیال رکھا جائے اور اس حوالے سے پولیس افسران اور عملے کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جائے اور مقدمہ درج کرواتے وقت اور عدالت میں چالان جمع کرواتے وقت غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے متعلق شہادتیں اکھٹی کی جائیں۔ انسداد عصمت دری پر قانون کی روح کے مطابق عملد اری کے لیے ضروری ہے کہ DNA کے فوری ٹیسٹ کے لیے فرینزک لیبارٹریز کی تعداد کو بڑھا یا جائے اور مزید بہتر اور جدید بنایا جائے ۔ ڈی این اے کے درست نتائج کے لیے اس کا فوری ٹیسٹ ہونا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے بنیادی مراکز صحت لیول پر فرینزک لیبارٹری کا موثر ہونا بہت ضروری ہے اور ٹیسٹ کرنے والے عملے کو بھی تربیت یافتہ ہونا چاہیئے اور ڈاکٹروں کی تعداد کو بھی بڑھایا جائے کیونکہ ایسے ڈاکٹروں کی پاکستان میں کمی ہے

پودا¿ کی 16 روزہ مہم 2016کے موقع پر یورپی یونین کے وفد برائے پاکستان کے نمائندہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین پاکستان میں انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کا فروغ چاہنا ہے اور عورتوں کی ترقی کے لیے حکومت پاکستان اور سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا ۔ ہم پاکستان میں عورتوں سے انصاف چاہتے ہیں اور تشدد سے پاک معاشرے کے لیے اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ 

محترمہ نبیلہ اسلم(پودا) نے پاکستان میں خواتین کو با اختیار بنانے اوراور پائیدار ترقی کے اہداف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عورت کو خود مختاری نہیں دی جائے گی ہم پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کی نصف سے زائد آباد ی تشدد کا شکار ہو یا بے اختیار ہو تو آپ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کا خواب کیسے پورا کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ ایسا سوچ رہے ہیں تو یہ آپ کی خام خیالی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں اپنی عورتوں کو فیصلہ سازی میںلانا ہو گا تاکہ ان کو صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع مل سکے اور ہم ایک ترقی یافتہ معاشرہ بن سکیں۔ ہمیں ترقی یافتہ معاشرہ بننے کے لیے عورتوں کے بارے میں فرسودہ خیالات کو ترک کرنا ہو گا اور غربت و افلاس کے خاتمہ کے لیے عورتوں پر تشدد کو بند کرنا ہو گا اور ان کو معاشی ، معاشرتی ، سیاسی دھارے میں شامل کرنا ہو گا ۔ 

مایہ نازشاعرہ اور ادیبہ محترمہ کشور ناہید نے اپنے خیالات کا اظہار کرنے ہوے کہا کہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ چاہیے جہاں ہماری بہنیں بیٹیاں تشدد سے محفوظ ہوں اور وہ اپنی مرضی سے آزادانہ زندگی بسر کر سکیںاور جہاں ان کے لیے خوف اور ڈر موجود نہ ہو ہم اپنی بہنو ں بیٹیو ں کو تشدد سے پاک معاشرے کی فراہمی کے لیے کوشش کرتے رہیں گے۔ہمارا خواب ایک ایسے معاشرے کی تکمیل ہے جہاں مرد اور عورت برابر کے شہری تصور کیے جاتے ہوں جہاں عورتوں کی عزت ہو اور معاشی معاشرتی اور سیاسی دھارے میں شامل ہوں آیئے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اس خواب کی تکمیل کے لیے کوشش کرتے رہیں گے ۔

جناب آئی اے رحمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لائے کی ضرورت ہے ۔ ہم حکومتی اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر ان قوانین پر عملداری بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ قانون بنانا ہی کافی نہیں بلکہ اس پر اس کی روح کے عین مطابق عمل کرنا بھی حکومت کا کام ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں تب تک امن حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک خواتین کے خلاف جنس کی بنیاد پر تشدد جاری رہے گا ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ گھریلو تشدد بھی معاشرے میں تشدد کو بڑھاتا ہے ۔ جناب آئی اے رحمان نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور اس پر بنائے گئے قوانین کی تشہیر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے آگاہ ہوں۔ 

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ2015 میں صنفی انصاف میں تعلیم ، صحت اور اقتصادی مواقع اور سیاسی خود مختاری تک رسائی میں خواتین کے خلاف تشدد کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015کے دوران 939خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 299 گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں ۔ 143خواتین پر تیزاب پھینکا گیا یا آگ لگائی گئی اور 833خواتین کواغواءکیا گیا ۔ مقدمات کے حجم کے باوجود استغاثہ کی شرح کافی کم ہے جبکہ 777خواتین نے خود کشی کی کوشش کی اور لگ بھگ 4000 بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔ 

پودا عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ایسا ادارہ ہے جو 2003سے پاکستان کے دیہی علاقوں میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔

پودا کا خواب ایک ایسا جمہوری معاشرہ ہے جس کی بنیاد صنفی مساوات اور معاشی انصاف پر ہو۔ پودا کا مقصد عورتوں ،نوجوانوں اور اقلیتوں کو روزگار کمانے کے ہنر سکھا کر جمہوریت اور پرامن ثقافت کی تعلیم کے ذریعے انسانی حقوق کی پیروی کے لئے با اختیار بنانا ہے تاکہ مساوات پر مبنی معاشرہ قائم ہو۔

پودا یورپین یونین وفد برائے پاکستان کے تعاون سے ایک سالہ پروجیکٹ جس کا عنوان ''جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے یورپی انسٹرومنٹ (EDIHR) اقدامات 2015 کر رہا ہے۔ یہ پروجیکٹ کافی سرگرمیوں پر مشتمل ہے جس میں سول سائٹی شراکت دار اور سٹیک ہولڈر حصہ لیں گے۔خواتین کے خلاف 16 روزہ مہم 2016 اسی پروجیکٹ کی ایک کڑی ہے۔ جس میں ملکی سطح پر موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل میں کام کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز کے ساتھ آ گے بڑ ھنا ہے۔

پروگرام کے آخر میں شمع روشن کی گئیں ۔

مزید معلو ما ت کے لئے محتر مہ نبیلہ اسلم سے 0336-5119924یاnabeela.poda@gmail.comپر را بطہ کر یں۔



Comments( 7 )

    No results found.

Leave a Comment